ڇنڇر, 18 سيپٽمبر 2021

امام حسین اور ان کے اصحاب

  • انداز قلم

 امام حسین ؑ کی زیارت کی برکتیں   
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: میرے شیعوں کو قبر  حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے کے لئے کہو، کیونکہ ان کی زیارت رزق میں زیادتی،عمر میں اضافہ،اور بلاومصیبت سے نجات کا ذریعہ  ہے ۔

تاريخ اسلام


(
حسین چراغ جہان تاب ص ۸۷)
 
 
کربلا کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کی بشارت
امام حسین علیہ السلام جب زمین کربلا پر پہنچے تو جگہ نام پوچھا لوگوں نے جب بتایا اس کا نا م ’’کربلا‘‘  ہے تو امام نے فرمایا کہ جنگ صفین میں جاتے وقت میرے بابا یہاں سے گزر  رہے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا تو بابا نے اس زمین کا نام پوچھا تو لوگوں نے بتایا کربلا تو امام ؑ نے فرمایا:یہی ان کے قیام کی جگہ ہے اور یہیں ان کا خون بہایا جائے گا ،پھر اس کے بارے میں لوگوں نے مزید دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:ہمارے اہل بیت میں سے کچھ لوگ یہاں قیام کریں گے ۔
(
حیات فکری  اور سیاسی امامان شیعہ ،رسول جعفریان  ص ۲۱۹)
 
 
کربلا کے بارے میں پیغمبر اکرم ؐ کی بشارت
کربلا کے بارے میں بہت زیادہ روایتیں پیغمبر اکرم سے نقل ہوئی ہیں انہی روایتوں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ امام  مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رات میں رسول خدا کی قبر مطہر پرگئے اور وہیں  سو گئے اور خواب میں پیغمبر اکرمؐ اور ملائکہ کو دیکھا کہ پیغمبرؐ امام حسینؑ کو گلے لگا کر فرما رہے ہیں :اے حسین ؑ!میں دیکھ رہا ہوں عنقریب تم میری امت کے ایک گروہ کے ہاتھوں کربلا میں قتل کر دئے جاؤ گے ۔۔۔اے حسین ؑ!تمہارے ماں باپ میرے پاس آئے ہیں اور تمہارے دیدار کے مشتاق ہیں اور جنت میں تمہارےلئے وہ مرتبہ ہے جو شہادت کے ذریعہ ہی ملے گا ۔
(
حیات فکری  اور سیاسی امامان شیعہ ،رسول جعفریان  ص ۲۱۹)
 
جندب ابن حجر کندی
  
کندی حجر بن عدی کے بیٹے ہیں ،ان کے والد امام علیؑ کے صحابیوں میں سے تھے جنہیں معاویہ نے حمایت علیؑ کی وجہ سے قتل کر دیا اور شام(سیریہ ) میں دفن ہیں حجرکے بیٹے (کندی) شیعوں کے بزرگوں میں سے اور دو قبیلے ’’بنی کندہ‘‘ اور ’’ازد‘‘ کے امیر اورحاکم تھے  وہ راستے میں امام حسین ؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور کربلا میں امام حسین ؑ کے ساتھ ساتھ رہے اور آخر میں روز عاشورہ شہادت پائی ۔
(
یاران شیدای حسین علیہ السلام  ،مرتضی آقا تہرانی  ص ۱۱۵ ،۱۱۶)
 
 
حبیب ابن مظاہر (مظھر)اسدی
حبیب رسول اللہؐ کے صحابی اور حضرت علیؑ کے مددگار اور آنحضرت کے علوم کے حاملوں میں سے تھے ،حبیب نے عاشور کے دن ضعیفی اور پیری کے باوجود ۶۲ ملاعین کو واصل جہنم کیا ۔
(
یاران شیدای حسین علیہ السلام  ،مرتضی آقا تہرانی  ص ۱۶۳،۱۷۲)
 
حر ابن یزید ریاحی
حر ہی وہ پہلے انسان تھے جنہوں نے امام حسینؑ کا راستہ روکا، لیکن انہوں نے  امام حسینؑ کی شان میں بے ادبی نہیں کی، اور جب دیکھا کہ عمر ابن سعد امام حسینؑ کےساتھ جنگ کا مصمم ارادہ  کر چکا ہے تو کاروان حسینی میں شامل ہوگئے، توبہ کی اور  امام  حسینؑ کی طرف سے جنگ کر کے شہادت پر فائز ہونے والے پہلے مجاہد بنے۔ امام حسینؑ حضرت حرؑ کے سرہانے بیٹھے اوران کے چہرے سے خون کو  صاف کیا اور فرمایا:’’ تم حر اور آزاد ہو ، جس طرح سے تمہاری ماں نے تمہارا نام حر رکھا ہے اسی طرح تم دنیا اور آخرت میں حر اور آزاد ہو‘‘
(
منبع : دانشنامہ رشد)
 
عاشور کے دو دن بعد جنازہ شہدا کی تدفین
 
گیارہویں محرم صبح ہی بنی امیہ کے لشکر والوں کے کشتہ ہای نجس کو اکٹھا کر کے ان پر نماز پڑھ کر انہیں دفنا دیا گیا لیکن امام حسین علیہ السلام کا بے سرلاشہ اور ان کے انصار کا جنازہ نہ صرف یہ کہ دفنایا نہیں گیا بلکہ عریاں  زمین کربلا پر پڑا رہا۔ چنانچہ ۱۲ محرم کو جب بنی امیہ کے کارندے کربلا سے چلے گئے تو قبیلہ بنی اسد کے لوگ قریب کے گاؤں غاضریہ سے آئے اور امام حسینؑ اور ان کے اصحاب و انصار کے جنازوں کو اسی مقام پر دفن کیا جہاں قتل عام ہوا تھا۔
(
ہدایۃ  ج ۸، ص ۱۸۹)
 
کربلا میں  کاروان امام حسین علیہ السلام کب پہنچا
امام حسین علیہ السلام دو محرم سن ۶۱ ہجری کو وارد کربلا ہوئے اور وہیں قیام کیا ۔
(
حسین چراغ جہان ناب ص ۱۸)
 
یزید کے تین  بھیانک جرم
۱۔سن۶۱ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنا اور ان کی آل کو قیدی بنانا۔۔۔۔
۲۔ واقعہ عاشورہ کے بعد مدینہ رسولؐ کی بے حرمتی اور وہاں کے رہنے والوں کودھار دار تلواروں سے تباہ وبرباد کر کے ان کی ناموس کی عزت و آبرو کو شامی لشکریوں کے لئے مباح قرار دینا۔
۳۔ اس نے مکہ کا محاصرہ کیا اور کعبہ کو ویران کر کے  اطراف ’’حرم  خدا ‘‘جہاں خدا کی امان ہے اس جگہ ہزاروں افراد کو قتل کرنا۔     ( پیشوایان ہدایت ،مترجم عباس جلالی ص ۱۴۴)
 
شب عاشور
 
شب عاشور امام حسین علیہ السلام اور ان کے انصار اس طرح دعا اور مناجات میں مشغول تھے کہ  محدثین نے لکھا: ان کے تسبیح و تہلیل اور دعا و مناجات کی آوازیں اس طرح آرہی تھیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھنانےکی آوازیں آتی ہیں، کچھ رکوع میں تو کچھ سجدے میں کچھ قیام میں تھے۔ لہذا ان کی ملکوتی آوازیں دشمن کی فوج کے  ۳۲ لوگوں میں ایسی اثر انداز ہوئیں کہ وہ امام حسینؑ کے لشکر سے آملے۔
(
سیرہ چہاردہ معصوم محمد محمدی اشتہاردی  ج ۶،ص ۳۶۵ و بحار الانوار ،ج ۴۴، ص۳۹۴)
 
علی اصغر ؑ
امام حسین علیہ السلام نے دشمنوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے انصار اور اقربا ء میں اس بچہ کے علاوہ اب کوئی نہیں ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ پیاس سے کس طرح جاں بلب ہے؟ ابھی امام حسین علیہ السلام یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ حرملہ نے چلہ کمان سے تیر امام حسینؑ اور علی اصغرؑ کی طرف رہا کیا جو علی اصغرؑ کے کانوں کو چیرتا ہوا گلوئے نازنین میں پیوست ہوگیا، امام حسین علیہ السلام نے علی اصغرؑ کے خون کو لیا اور آسمان کی سمت پھینک دیا۔
(
اولین دانشگاہ  و آخرین پیامبر ، شہید پاک نژاد،ج۲،ص۴۲)
 
مسلم ابن عوسجہ
مسلم  ابن عوسجہ پیغمبر اکرم ؐ کے اصحاب اور شیعوں میں سے تھے جو کوفہ میں رہتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب خاص میں سے تھے جنگ صفین، جمل اور نہروان میں امام علی علیہ السلام کے ہمراہ  تھے۔ مسلم ابن عقیل کی شہادت کے بعد حبیب ابن مظاہر کے ہمراہ حکومت کی نظروں سے بچ کر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور شب عاشور جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب او ر انصار سے چلے جانے کو کہا تو مسلم ابن عوسجہ ہی تھے جو کھڑے ہوئے اور کہا: اےہمارے  آقا و مولا !کیا آپ کو ہم تنہاچھوڑ دیں؟ اگر ایسا کریں گے تو کل روز قیامت خدا کی عدالت میں آپ کے نانا رسول اللہ ؐ کو کیا جواب دیں گے؟ اور کون سا عذر پیش کریں گے ؟خدا کی قسم ہم آپ سے جدا نہیں ہو سکتے، خدا کی قسم آپ کی نصرت سے دستبردار نہیں ہو سکتے ۔۔۔خدا کی قسم اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ قتل ہو جائیں گے پھر زندہ کئے جائیں  گےپھر دوبارہ ہمیں قتل کر دیا جائے اور ہماری لاش کو آگ میں جلا دیا جائے اور ستر بار ہمارے ساتھ یہی سلوک کیا جائے تب بھی ہم آپ سے جدا نہیں ہونگے۔
(
حسین انصاریان ،با کاروان نور ،چاپ دوم ،دارالعرفان ،پائیز ۱۳۸۷  ص ۱۲۷)
 
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا انداز
شمر نے گھوڑسواروں کو بلایا تاکہ وہ پیادہ فوج کے پیچھے چلیں اور امام حسین علیہ السلام کے جسم مبارک پر تیر برسائیں چنانچہ اتنے تیر لگے کہ امام ؑ کا جسم تیروں سے چھپ گیا اور امام ؑ رک گئے اس کے بعد ہر طرف سے حملہ ہوگیا اور ’’ زرعت ابن شریک ‘‘ نے ایک ضربت آپ کے بائیں بازو پر مار کر اسے قلم کردیا اور دوسری ضرب آپ کے سر مبارک پر لگایا جس کے بعد امام ؑ منھ کے بل زمین پر گرگئے ،پھر ’’سنان ابن انس ‘‘  نے آنحضرت کو نیزہ مارا، اور’’ خولی ابن یزید اصبحی‘‘ نے  چاہا کہ امام کا سر تن سے جدا کردے لیکن اس ملعون کے بدن میں لرزہ تاری ہوگیا تو ’’ شمر ‘‘  اسے ہٹا کر خود آگے بڑھا اور امام عالی مقام کے سر مقدس کو جدا کر کے خولی کے حوالے کیا پھر  سب نے امام حسین ؑ کے جسم مبارک کو تاراج کیا۔
(
ارشاد ،ج ۲ ،ص ۱۱۲، اعلام الوری،ج۱،ص ۴۶۹)
 
 
روز عاشورا نماز ظہر
عاشورا، کربلا کاسخت ترین دن ہے، نمازظہر سے پہلے اصحاب حسینی کے تیس جاں نثار شہید ہوچکے تھے ایسے حالات کے بعد بھی جیسے ہی امام حسین علیہ السلام ظہر کی نماز کے وقت سے باخبر ہوئے دشمنوں کے حملے اور ظلم و بے رحمی کے باوجود اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز جماعت کو قائم کیا۔ آپ کی نظر میں نماز کے لئے اتنی زیادہ تاکید کی کیا وجہ ہے ؟
 
آدھے راستے  کے ساتھی
جس وقت امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچے تو پانچ سو سوار، اور سو افراد پیادہ آپ کے ہمراہ تھے لیکن یہ لوگ آٹھ دن میں خصوصاً شب عاشور امام ؑسے دور ہوگئے۔
(
حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ ،رسول جعفریان ،ص ۲۱۲)
 
 
قیس ابن مسہر صیداوی
قیس ابن مسہر صیداوی، امام حسینؑ اور مسلم ابن عقیل کے قاصد  تھے، امام حسینؑ نے جناب مسلم کے لئے خط لکھا اور قیس کے ذریعہ اسے کوفہ بھیجوایا لیکن قیس راستے میں ہی گرفتار ہوگئے کیونکہ جناب مسلم کی شہادت کے بعد عبید اللہ نے کوفہ میں سپاہیوں کو تیار کر رکھا تھا۔ عبیداللہ جناب قیس سے خط نہ لے سکا اور نا ہی اس میں لکھے مضمون سے باخبر ہو سکا۔ مگر اس نے جناب قیس سے کہا کہ منبر پر جاؤ اور امام حسین علیہ السلام پر لعنت کرو چنانچہ جناب قیس منبر پر گئے اور امام حسین علیہ السلام کو سلام کیا اور عبیداللہ اور اس کے باپ پر لعنت کی، اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پیر باندھ کر دارالامارہ سے گرادیا جائے اور ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں ۔
(
یاران شیدای حسین علیہ السلام ،مرتضی آقا تہرانی ،ص۹۳۔۹۵   اور ارشاد ،ج۲،ص۷۱ ،مسیر الاحزان ،ص ۴۲)
 
امام سجاد علیہ السلام
عاشور کے دن امام سجاد علیہ السلام شدید بیمار تھے اور اسی بیماری کی حالت میں اٹھے اور خیمے  سے باہر آئے اور بڑی مشکل سے اپنی تلوار کو حمائل کیا تاکہ میدان جنگ کو جائیں لیکن آپ کی پھوپھی ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے آواز دی:( اے بیٹا) ’’خیمے میں پلٹ آؤ ‘‘ تو امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا : ’’اے پھوپھی اماں مجھے جانے دیں تاکہ فرزند رسول کےہم رکاب دشمنوں سے جنگ کروں‘‘اتنے میں  امام حسینؑ بھی متوجہ ہوگئے اور آواز دی: ’’اے ام کلثوم ! اسے روک لو تاکہ زمین آل محمدؐ کی نسل سے خالی نہ ہوجائے ‘‘ ام کلثوم تیزی سے امام سجاد ؑ کی طرف آئیں اور انہیں خیمے میں لے گئیں۔
(
سیرہ چہاردہ معصوم محمد محمدی اشتہاردی  ج ۶،ص ۳۸۷)

 

حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے کمانڈر اور علمدار تھے ان کے چہرے کے جمال وجلال کی وجہ سے انہیں قمر بنی ہاشم کہا جاتاتھا، کربلا کی جنگ میں میسرہ کی فرمانروائی، پانی کی فراہمی، خیموں کی نگرانی اور امام حسین علیہ السلام کے کنبے کی حفاظت آپ کے ذمے تھی۔ عاشور کے دن آپ کے تین بھائی آپ سے پہلے شہید ہوچکے تھے، عباس علیہ السلام ایثار، حلم اور وفاداری کا مظہر تھے اور جس وقت امام حسین علیہ السلام کے حکم سے  پانی کی فراہمی کے لئے میدان کا رخ کیا اور بے مثل و بے نظیر معرکہ آرائی کے بعد جب فرات پر قبضہ کر لیا تو پیاسے ہونے کے باوجود بچوں اور بیبیوں کی تشنگی کو یاد کر کے پانی نہیں پیا اور جب جام شہادت نوش کیا تو امام حسین علیہ السلام سرہانے آئے اور فرمایا: ’’ اے بھیا !اب میں یک و تنہا اور بے یار ومددگار ہو گیا ‘‘
(
سیرہ چہاردہ معصوم محمد محمدی اشتہاردی  ج ۶،ص ۳۸۷)
 
 
کوفہ میں مسلم ابن عقیل کی مظلومی
دسیوں ہزار لوگوں نے مسلم کے ہاتھوں پر جہاد کے لئے بیعت کی لیکن صرف چار ہزار لوگ میدان میں آئے پورے شہر کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے باوجود کوفے کے اشراف کی خیانت اور شامیوں سے ڈر کی وجہ سے غروب تک ان کے اصحاب کی تعداد گھٹ کر ۵۰۰ سو ہوگئی۔ اور مغرب کی نماز جماعت کے لئےجب جامع مسجد گئے تو صرف ۳۰ لوگ بچے اور جب نماز مکمل ہوئی تو ۱۰ لوگ بچے، اور جب مسجد سے باہر آئے تو صرف ایک شخص آپ کے ساتھ تھا۔ یہاں تک کہ جناب مسلم کے لئے کوئی پناہگاہ نہیں بچی اور مظلومی سے آپ کا سر قلم کردیا اور جسم مطہر کو دارالامارہ کی چھت سے نیچے پھینک دیا گیا ۔
(
برگرفتہ از مصاحبہ از استاد رجبی دوامی با خبر گزاری فارس ۲۳۔۷۔ ۱۳۹۲)
 
حضرت رقیہ(سکینہ) سلام اللہ علیہا
عماد الدین طبری نے ’’الحاویۃ ‘‘ کتاب سے نقل کیا ہے کہ خاندان نبوت کی عورتیں باپ کی شہادتوں کو بچوں سے پوشیدہ رکھتی تھیں اور کہتی تھیں: تمہارے والد سفر پر گئے ہیں امام حسین علیہ السلام کی ایک چار سالہ بچی تھی ایک رات پریشانی کے عالم میں بیدار ہوئی اور کہتی ہے: میرے بابا کہاں ہیں؟ میں نے ابھی اسے دیکھا ہے! عورتیں اور بچے یہ بات سن کر رونے لگے یہاں تک کہ کہرام بپا ہوگیا، یزید نیند سے بیدار ہوا اور پوچھا: کیا ہوا ؟ اسے سارا ماجرا سنایا گیا تو اس ملعون نے حکم دیا کہ اس کے باپ کا سر اس کے پاس لے جاؤ سر لایا گیا اور سکینہ (سلام اللہ علیہا)کے آغوش میں رکھا گیا تو بی بی نے کہا یہ کیا ہے ؟ کہا گیا تمہارے بابا کا سر ہے یہ سن کر بچی پریشان ہوگئی اور گھبرا کر فریاد کرنے لگی اس کے بعد بیمار ہو گئی اور اسی ایام میں شام (دمشق) میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔( شیعہ تاریخ کے مطابق اسی لمحہ دنیا سے رخصت ہوگئی )  
(
منبع کامل بھائی ۲۔ ۱۷۹)
 
حضرت زینب سلام اللہ علیہا
امام حسین علیہ السلام نے شہادت کے وقت سید سجاد علیہ السلام سے ان کی شدید بیماری کی وجہ سے یا کسی اور بنا پر، اپنی وصیتوں کو جناب زینب سلام اللہ علیہا سے کیا اور عظیم امانت کو بھی کچھ مدت کے لئے جناب زینب سلام اللہ علیہا کے سپرد کیا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس مدت قافلے کی نظارت کی اور یزید کو اس کے دربار میں ہی امام سجادؑ کی مدد سے  ذلیل کر کے اس کے دربار میں عزاداری برپا کی، جناب زینب اور دوسرے لوگوں نے دل کھول کر اس کے  دربار میں نوحہ خوانی اور گریہ وزاری کی ،’’دارالحجارہ‘‘ نامی محلے جہاں اسیروں کا قیام تھا وہاں ایک ہفتہ تک ایسی عزاداری ہوئی کہ یزید کو اپنی حکومت کے خاتمہ کا  خطرہ محسوس ہونے لگا اور شام کے لوگ ان کی عزاداری کے وقت جمع ہوتے تھے اور چاہتے تھے کہ یزید کے گھر پر حملہ کر کے اسے قتل کردیں، لیکن یزید سمجھ گیا اور اس نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو مدینہ واپس بھیجنے کا مقدمہ فراہم کر انہیں رہا کر دیا۔
(
منبع :صحیفہ مبلغان شمارہ ۸۸، ص ۴۱،نویسندہ سیدہ فاطمہ میر اسماعیلی )
 
شمر
جنگ صفین میں شمر حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھا لیکن خوارج کے لشکر میں چلا گیا اور عاشورا کی جنگ میں ’’عبیداللہ ابن زیاد ‘‘ کے لشکر سے ملحق ہو گیا۔ شمر کربلا میں بہت سے جرائم کا مرتکب ہوا انہیں جرائم میں سے بعض روایتوں کے مطابق ایک جرم امام حسین علیہ السلام کے سینہ مبارک پر سوار ہوکر آپ کا سر پس پشت سے جدا کرنا ہے ،’’امام حسین علیہ السلام روز عاشورا شمر سے کہتے ہیں:کہ رسول خداؐ نے صحیح فرمایا  تھا کہ ایسے دو رنگ  (سفید اور کالے ) کتے کو دیکھ رہا ہوں جو میرے اہل بیت کا خون پی رہا ہے ‘‘
(
منبع: مجلہ مبلغان شمارہ ۸۸، ص ۴۱، نویسندہ سیدہ فاطمہ میر اسماعیلی )
 
حضرت علی اکبر علیہ السلام
’’
خصائص الحسینیہ‘‘میں شیخ جعفر شوشتری سے منقول ہے کہ : امام حسین علیہ السلام نے جب جناب علی اکبر کو میدان میں بھیجا تو لشکر کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے لوگو! گواہ رہنا کہ میں اس بیٹے کو میدان میں بھیج رہا ہوں جو خلقاً و خُلقاً و منطقاً سب سے زیادہ رسول اللہؐ سے شباہت رکھتا ہے، اور جب بھی میں نانا رسول اللہ کی زیارت کا مشتاق ہوتا تھا تو علی اکبر کی زیارت کر لیا کرتا تھا ‘‘۔اس وقت علی اکبر کی  عمر  ۲۵ یا ۲۸ سال بیان ہوئی ہے۔
(
مقاتل الطالبین ،ص ۵۳)
 
 
حضرت قاسم علیہ السلام
قاسم ابن الحسن، امام حسنؑ کے بیٹے جنہوں نے تین، چار سال کی عمر سے ہی اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں تربیت پائی کربلا میں آپؑ کی عمر ۱۳ یا ۱۴ سال تھی۔ جناب قاسم شب عاشور اپنے چچا امام حسینؑ سے کہتے ہیں: اے چچا جان کیا مجھے بھی شہادت نصیب ہوگی؟ تو امام نے فرمایا:اے بیٹا شہادت تمہارے نزدیک کیسی ہے؟ قاسم علیہ السلام نے فرمایا۔ اے چچا شہادت میرے نزدیک شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ جناب قاسم روزہ عاشورا پیاسے ہی میدان جنگ میں شہید ہو گئے اور شہادت کے وقت آواز دی، چچا جان! آواز سنتے ہی امام حسین علیہ السلام شکاری پرندہ کی طرح تیزی سے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئےجناب قاسم کے سرہانے پہنچے اور قاسم علیہ السلام امام حسینؑ کی آغوش میں ہی شہید ہو گئے۔
(
برگرفتہ از کتاب روضہ ہای مقام معظم رہبری ص ۵۳۔۵۵ ،تدوین محمد رحمتی شھرضا)
 
کربلا میں نو مسلم دولہا اور دولہن۔
ایک عیسائی نومسلم دولہا دلہن جو امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہوئے۔ جن کا نام وہب ہے جو اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ کربلا آئے۔ کہتے ہیں روز عاشورا وہب کی شادی کےتقریباً  سترہ دن ہوئے تھے چنانچہ ان کی بیوی نے کہا  اب جبکہ مصمم ارادہ کرچکے ہو کہ دشمنوں سے مقابلے میں فرزند رسول خدا ؐ کا دفاع کرو تو یقیناً اگر اس راہ میں شہید ہوئے تو جنت میں جاؤ گے لہذا امام علیہ السلام کے سامنے ہم سے وعدہ کرو کہ قیامت کے دن ہمیں فراموش نہیں کروگےاسکے بعد دونوں امام حسینؑ کے پاس تشریف لائے اور  وہبؑ کی زوجہ نے اپنے مطالبے کو امامؑ کی خدمت میں اس طرح پیش کیا کہ امام حسین علیہ السلام بہت زیادہ متاثر ہوئے اور گریہ کرنے لگے۔ لہذا جناب وہب کی شہادت کے بعد ان کی زوجہ نے ان کے نیزہ کو اٹھا کر دشمن پرحملہ آور ہوئیں اور آخر کار شمر کے غلام کے ہاتھوں  شہادت کے درجہ پر فائز ہوئیں اور تاریخ میں ان کا نام ’’کربلا کی اکیلی شہیدہ خاتون ‘‘کے عنوان سے مرقوم ہے۔
(
منبع: گلبرگ فرور دین ۱۳۸۱ ،خصوصی شمارہ محرم

مهمان طور راءِ ڏيو

  • بغير راءِ جي